واشنگٹن،23اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)نصف اوقات میں کام کرنے کے وجہ سے خواتین کی اجرت میں وہ اضافہ نہیں ہوتا جو مردوں کے مکمل اوقات میں کام کرنے کی وجہ سے ہوتا رہتا ہے۔انسٹی ٹیوٹ فار فِسکل سٹڈیز کے مطابق وہ عورتیں جو بچہ جنم دینے کے بعد جزوقتی طور پر اپنی ملازمت پر واپس آتی ہیں، وہ بعد کے کئی برس بعد تک بھی ان کی تنخواہ مردوں کے مقابلے پر کم ہوتی ہیں۔ادارے کے مطابق مردوں اور عورتوں کی اجرت کا یہ فرق بچوں کی پیدائش کے بعد کے برسوں میں بتدریج بڑھتا ہی جاتا ہے۔آئی ایف ایس کے مطابق خواتین ترقی کے مواقع کھو دیتی ہیں اور انھیں کام کا تجربہ بھی کم ہوتا ہے اور یہ عوامل ان کی آمدن میں اضافے نہ ہونے کا باعث بنتے ہیں۔برطانیہ میں گذشتہ 12برس کے دوران یہ فرق بڑھ کر 33فیصد تک پہنچ گیا ہے۔آئی ایف سی کے رکن رابرٹ جوئس کا کہنا تھا کہ خواتین کے کام کے اوقات کم کرنے کے بعد ان کی آمدن میں فوری کمی واقع نہیں ہوتی۔اس کے بجائے ہوتا یہ ہے کہ نصف اوقات میں کام کرنے کی وجہ سے ان کی اجرت میں وہ اضافہ نہیں ہوتا جو مردوں کے مکمل اوقات میں کام کرنے کی وجہ سے ہوتا رہتا ہے۔ اور یہ فرق وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ وہ خواتین بھی جو کام سے طویل چھٹی لے لیتی ہیں، جب وہ واپس آتی ہیں تو تنخواہوں میں اضافے کے مواقع ضائع ہو چکے ہوتے ہیں۔تحقیق کے مطابق عمومی طور پر خواتین کی آمدن مردوں کی نسبت 18فیصد کم ہے۔پہلے بچے کی پیدائش کے بعد کام کرنے کی فی گھنٹہ اجرت کا یہ فرق تیزی سے بڑھنے لگتا ہے۔ٹریڈ یونین کونسل کے سیکرٹری فرانسس او گریڈی کا کہنا تھاکہ یہ بہت اہانت آمیز ہے کہ لاکھوں خواتین کو ماں بننے کا تاوان ادا کرنا پڑتا ہے۔کئی خواتین کو اپنی ذمہ داریوں کے دباؤ کے ساتھ ساتھ بہتر تنخواہوں کی تلاش میں نوکری چھوڑنی پڑتی ہے کیونکہ ملازمتوں میں لچک نہیں ہوتی۔البتہ تنخواہوں کا یہ 18فرق فیصد کا فرق ماضی کے مقابلے مںی کافی کم ہے۔ اس سے پہلے 1993میں یہ 28فیصد، جبکہ سنہ 2003میں 23فیصد تھا۔بچوں کی پیدائش کے بعد کئی خواتین محض جز وقتی ملازمت کو ترجیح دیتی ہیں۔آئی ایف ایس کے مطاق پہلے بچے کی پیدائش کے بعد گذشتہ 20برسوں میں خواتین نے مردوں کے مقابلے میں چار سال کم کام کیا۔جبکہ 20برس میں خواتین کے عمومی کام کے مقابلے میں مردوں نے 20گھنٹے ہفتے میں کام کر کے نو سال زیادہ کام کیا۔